Friday, 22 June 2018

Sogawaar e Hussan ( Sad Beauty )


غزل

عالم انتظار دیکھا ہے
ہم نے روزو شمار دیکھا ہے

آپ کو بار بار دیکھا ہے
اور بے اختیار دیکھا ہے

کس سے پوچھوں میں خواب کی تعبیر
حُسن کو سوگوار دیکھا ہے

اہلِ دِل نے تمھارے جلووں میں
نُور پرور دگار دیکھا ہے

ہم نے فصلِ خزاں کے رستے میں
کاروانِ بہار دیکھا ہے

جب بھی میں نے چنے ہیں کچھ تنکے
برق کو بے قرار دیکھا ہے

دل کے داغوں کو پوچھنے والے
دامن تار تار دیکھا ہے

ہم اسیروں کی پوچھتے کیا ہو
ہم نے لطفِ بہار دیکھا ہے

کوئی اپنا نہیں ملا " رؔضوان"
ہم نے اک اک دیار دیکھا ہے

ابراہیم حسین رؔضوان 



No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...