Friday, 30 November 2018

Jena Parta Hai ( Have to live )


غزل

اپنے ضمیر کا   بھرم رکھنا پڑتا ہے

سچ کی خاطر خود سے لڑنا پڑتا ہے

ہوتا ہے وہی جوقسمت میں لکھا ہے

تقدیر کے سانچے میں ڈھلنا پڑتا ہے

پیار میں جینا کوئی آسان نہیں ہے

اِک  پَل میں سو بار مرنا پڑتا ہے

ملتا ہے کہیں جا کے خوشی کا اک لمحہ

برسوں تیرے غم کو جھیلنا پڑتا ہے

محبت کے سفر میں  ملتا  نہیں کچھ اور

دُکھ درد کے کانٹوں پہ  چلنا پڑتا ہے

 ہوتی نہیں ختم  فراق کی گھڑیاں

ملن کے لئے ہجر سے لڑنا پڑتا ہے

اِک دن مرنے کے لئے عادؔل تمام عمر

آہوں سسکیوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے




No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...