Thursday, 4 January 2018

Moujza e Muhabbat



یہ مُعجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

وہ میرا دوست ہے سارےجہاں کو ہے معلوم
دَغاکرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

وہ مہربان ہے تو اِقرار کیوں نہیں کرتا
وہ بدگمان ہے تو سو بار آزمائے  مجھے

میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتؔیل
غمِ حیات سے کہہ دُو خرید لائےمجھے








No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل