Friday, 26 January 2018

Shaam ka Saya


غزل
جب   شا م کا سایہ ڈھلتا ہے
اک شخص مجھے یاد آ تا ہے

بھیگیُ ر ت میں ساون کی طرح
میر ے دل میں وہ لہرا تا ھے

محفل ہو یا کے تنہائی
میرے ساتھ وہ ہر پل رہتا ہے

تیری یاد کا ہر اِک لمحہ
میری روح کو مہکا تا ہے

کیا بتلا ئیں ہجر کے غم
اک درد سا دل میں رہتا ہے

جس دن سے بچھڑا ہے عادؔل
ہر خواب ادھورا لگتا ہے



No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...