Tuesday, 20 February 2018

Nidamat ki Aag


جب سر عام کسی کو رُسوا ہوتا دیکھا
خود کو ندامت کی آگ میں سُلگتا دیکھا

خوبصورت سے لوگ ہیں عاؔدل کتنے سچے
میں نے ہر چہرے سے پردہ اُٹھتا دیکھا









No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل