Friday, 13 March 2020

Aks Kitnay Utar Gaye Mujh Mein ( The mirrors all landed in me)


غزل

عکس سارے اُتر گئے مجھ میں
پھر نہ جانے کدھر گئے مجھ میں

میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں

میں وہ پل تھا جو کھا گیا صدیاں
سب زمانے گذر گئے مجھ میں

یہ جو میں ہوں، ذرا سا باقی ہوں
وہ جو تم تھے، وہ مر گئے مجھ میں



No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل