غزل
مانا تیری نظر
میں تیرا پیار ہم نہیں
کیسے کہیں کے
تیرے طلبگار ہم نہیں
خود کو جلا
کر راکھ بنایا مٹا دیا
لو اب تمہا ری
راہ میں دیوار ہم نہیں
جس کو نکھارا ہم
نے تمناؤں کے خون سے
گلشن میں اُس
بہار کے ، حق دار ہم نہیں
دھوکا دیا ہے
خود کو محبت کے نام پر
کیسے کہیں کہ
تیرے طلبگار ہم نہیں
No comments:
Post a Comment