Sunday, 15 March 2020

Iss say pehlay kay Baywafa ( Before unfaithful )





غزل

اِس سے پہلے کہ بےوفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جُدا ہو جائیں

دیر  سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں

عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا
خاک ہو جائیں ،کیمیا ہو جائیں

اب کے گر  تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تیری قبا ہو جائیں


بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ

کیا کریں لوگ جب خُدا ہو جائیں




No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل