غزل
اِس سے پہلے کہ بےوفا ہو
جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جُدا ہو
جائیں
دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو
جائیں
عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا
خاک ہو جائیں ،کیمیا ہو
جائیں
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تیری قبا ہو
جائیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے
فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خُدا ہو
جائیں
No comments:
Post a Comment