Tuesday, 10 March 2020

Choti Si khata ( Minor Mistake)


غزل

چھوٹی سی اک خطا کی تلافی نہ کرسکے
محفل میں کوئی بات اضافی نہ کرسکے

وعدہ یہی تھا ہم اُسے چاہیں گے عمر بھر
ہم عمر بھر یہ وعدہ خلافی نہ کرسکے

تونے جہاں کہا وہیں ٹہرا رہا ہے عشق
کچھ بھی تیری رضا کے منافی نہ کرسکے

آئے وہ سامنے تو نظر جھک کے رہ گئی
دھڑکا وہ دِل کے بات بھی کافی نہ کرسکے

روئے زمیں پہ تم سے مسیحا ملے تو تھے
لیکن کسی دوا کو بھی شافی نہ کرسکے



No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...