Saturday, 28 March 2020

Iss chaman ko kabhi (Never let this moon be desert )

غزل

اِس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دونگا
مر مٹوں گا مگر ایسا نہیں ہونے دونگا

جب تلک میری پلکوں پے دیئے روشن ہیں
اپنی نگری میں اندھیرا نہیں ہونے دونگا

تو اگر میرا نہیں ہے تو مجھے بھی ضد ہے
میں  تجھے بھی کبھی تیرا نہیں ہونے دونگا

رَت جگوں نے میری آنکھوں کی بصارت لےلی
دلِ بینا تجھے اندھا نہیں ہونے دونگا

دفن ہو جائے گا خود رات کی تاریکی میں
جو یہ کہتا ہے سویرا نہیں ہونے دونگا

ساقی امروہوی


No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل