میری چاہ
تیری
یاد دے وچ سدا بلدے رہندے
میری بے نور اکھاں دے ڈیوے
تیرے
ہجر نے مینوں مار مُکایا
کر کوئی سجن ملن دے حیلے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment