ہم اُن سے ملنے کے بہانے
ڈھونڈ لیتے ہیں
غم کوبھلانے کے لئے پیمانے
ڈھونڈ لیتے ہیں
دل کی کیفیت بیان کرنے کے لئے عاؔدل
ہر ایک حقیقت میں افسانے
ڈھونڈ لیتے ہیں
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment