ہم اُن سے ملنے کے بہانے
ڈھونڈ لیتے ہیں
غم کوبھلانے کے لئے پیمانے
ڈھونڈ لیتے ہیں
دل کی کیفیت بیان کرنے کے لئے عاؔدل
ہر ایک حقیقت میں افسانے
ڈھونڈ لیتے ہیں
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment