مہرباں ہم پہ ہر
ایک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے
ہی ملاقات ہوا کرتی تھی
ہجر کی رات ہے
اور آنکھ میں آنسو بھی نہیں
ایسے موسم میں
تو برسات ہوا کرتی تھی
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment