مہرباں ہم پہ ہر
ایک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے
ہی ملاقات ہوا کرتی تھی
ہجر کی رات ہے
اور آنکھ میں آنسو بھی نہیں
ایسے موسم میں
تو برسات ہوا کرتی تھی
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment