بے عمل کو دنیا
میں، راحتیں نہیں ملتیں
دوستو! دعاؤں
سے، جنتیں نہیں ملتیں
اس نئے زمانے
کے، آدمی ادھورے ہیں
صورتیں تو ملتی
ہیں، سیرتیں نہیں ملتیں
منظر بھوپالی
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment