بے عمل کو دنیا
میں، راحتیں نہیں ملتیں
دوستو! دعاؤں
سے، جنتیں نہیں ملتیں
اس نئے زمانے
کے، آدمی ادھورے ہیں
صورتیں تو ملتی
ہیں، سیرتیں نہیں ملتیں
منظر بھوپالی
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment