وقتِ
رُخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اُس
کو ہم کیا کھو ئیں گے، جس کو کبھی پایا نہیں
زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے
اور
اِس صحرا میں تیرا ، دُور تک سایا نہیں
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment