Tuesday, 12 January 2021

Waqt e Rukhsat ( Time to leave )


وقتِ رُخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں

اُس کو ہم  کیا  کھو ئیں گے، جس کو کبھی پایا نہیں


زندگی  جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے

اور اِس  صحرا میں تیرا ، دُور تک سایا نہیں



 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل