Saturday, 16 January 2021

Dard bhari shairi ( Painful poetry )


درد بھری شاعری


میں تو حیران ہوں کہ حیران نہیں ہے کوئی

لوگ اِتنے ہیں کہ اِنسان نہیں ہے کوئی

@@@@@@@

جنہیں ہم کہہ نہیں سکتے، جنہیں تم سُن نہیں سکتے

وہی باتیں ہیں کہنے کی، وہی باتیں ہیں سُننے کی

@@@@@@@

ہم تو ہنستے ہیں دوسروں کو ہنسانے کی خاطر محسنؔ

ورنہ دل پے زخم اتنے ہیں کہ رویا بھی نہیں جاتا

@@@@@@@

تیرے جانے کے بعد کون روکتا ہمیں

جی بھر کے خود کو برباد کیا ہم نے

@@@@@@@

محبت جب سَکونِ  زندگی برباد کرتی ہے

تو لب خاموش رہتے ہیں نظر فریاد کرتی ہے

@@@@@@

کون کرے اِس دِل کی دیکھ بھال

روز  تھوڑا سا ٹوٹ جاتا ہے۔!!

 



 

No comments:

Post a Comment

Nazar ka hissab (Eye Counter)

  نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل