مفلس جو اپنے تن
کی قبا بیچ رہا ہے
واعظ بھی تو
ممبر پے دُعا بیچ رہا ہے
دونوں کو درپیش
مسائل اپنے شکم کے
وہ اپنی خودی
اپنا خدا بیچ رہا ہے
مفلس جو اپنے تن
کی قبا بیچ رہا ہے
واعظ بھی تو
ممبر پے دُعا بیچ رہا ہے
دونوں کو درپیش
مسائل اپنے شکم کے
وہ اپنی خودی
اپنا خدا بیچ رہا ہے
غزل
جب شا م کا سایہ ڈھلتا ہے
اک شخص مجھے یاد
آ تا ہے
بھیگیُ ر ت میں
ساون کی طرح
میر ے دل میں وہ
لہرا تا ھے
محفل ہو یا کے
تنہائی
میرے ساتھ وہ ہر
پل رہتا ہے
تیری یاد کا ہر
اِک لمحہ
میری روح کو
مہکا تا ہے
کیا بتلا ئیں
ہجر کے غم
اک درد سا دل
میں رہتا ہے
جس دن سے بچھڑا
ہے عادؔل
ہر خواب ادھورا
لگتا ہے
عادل
غزل
یہ رات یہ پاگل
تنہائی
تیری یاد کی
گونجے شہنائی
ہجرکے تپتے صحرا میں
تیری زلف کی
چھاؤں یاد آئی
ہونٹوں پہ تیرا
نام آیا !
ویرانے میں جیسے
بہار آئی
میرے ساتھ وہ ہر
پل رہتا ہے
محفل ہو یا کہ
تنہائی
کیسے کہوں بے
وفا تجھ کو
منظور نہیں تیری
رُسوائی
تیرے عشق نے
کیاکیا نام دیٔے
پاگل، مجنوں،
سودائی
عا د ل
غزل
وقت نے جو کیٔے
ستِم
ٹوٹا ہے دل آنکھ
ہے نَم
بہار بھی خزاں
لگے
جب سے ہوے جدا
صنم
کس کو دِکھاؤں
داغِ دل
کوئی نہیں میرا ہمدم
کانٹوں سے کو ئی
گلہ نہیں
ہمیں د ئیے
پھولوں نے زخم
دونوں مجھے عزیز
ہیں
تیرا ِِستم تیرا کرم
نقش ہیں دل پر میرے
آج بھی یادوں کے قدم
یہ زندگی ہے
عادؔل یا تیری
اُ لجھی ہو
ئی زُلفوں کے خَم
قطعہ
ہجر
کا بیقرار ستا رہ ہوں
درد
کی رات کا سویرا ہوں
سوچتا
رہتا ہوں میں یہ اکثر
روشنی
ہوں کہ اندھیرا ہوں
غزل
تو سمجھتا ہے
تیرا ہجر گوارا کر کے
بیٹھ جائیں گے
محبت سے کنارہ کر کے
خودکشی کرنے
نہیں دی تیری آنکھوں نے مجھے
لوٹ آیا ہوں میں
دریا کا نظارہ کر کے
جی تو کرتا ہے
اُسے پاؤں تلے روندنے کو
چھوڑ دیتا ہو
مقدر کا ستارہ کر کے
کرنا ہو ترکِ
تعلق تو کچھ ایسے کرنا
ہم کو تکلیف نہ
ہو ذکر تمہارا کر کے
اِس لیے اُس کو
دلاتا ہوں میں غصہ تابشؔ
تا کہ دیکھوں
میں اُسے اور بھی پیارا کر کے
تابشؔ
غزل
کون پُرسانِ حال
ہے میرا
زندہ رہنا کمال ہے میرا
تو نہیں تو تیرا
خیال سہی
کوئی تو ہم خیال ہے میرا
میرے اعصاب دے
رہے ہیں جواب
حوصلہ کب نِڈھال ہے میرا
چڑھتا سورج بتا
رہا ہے مجھے
بس یہیں سے زوال
ہے میرا
سب کی نظریں
مِری نگاہ میں ہیں
کس کو کتنا خیال
ہے میرا
ساقی امروہی
غزل
تمام عمر ہر صبح
کی آذان کے بعد
اِک امتحان سے گذرا، اِک امتحان کے بعد
خُدا کر ے کہ
کہیں اور گردشِ تقدیر
کسی کا گھر نہ اُجاڑے مِرے مکان کے بعد
دَھرا ہی کیا ہے
مِرے پاس نذر کرنے کو
تیرے حضور مِری
جان، میری جان کے بعد
یہ راز اُس پہ
کھلے گا جو خود کو پہچا نے
کہ اِک یقین کی
منزل بھی ہے گمان کے بعد
یہ جُرم کم ہے
کہ سچائی کا بھرم رکھا
سزا تو ہونی تھی
مجھ کو مِرے بیان کے بعد
مِرے خُدا اِسے
اپنی امان میں رکھنا
جو بچ گیا ہے
مِرےکھیت میں لگان کے بعد
ساقی امروہی
مجبوری
تجھے میں بُھول
تو جاتا
مگر تیرے
تعلق سے
جو چہرے سامنے
آئے
جوراستے سامنے آئے
جو لمحے سامنے آئے
جو رشتے سامنے آئے
اُنہیں کیسے
بُھلاتا میں
تجھے کیسے
بُھلاتا میں
اعتبار ساجدؔ
غزل
دل کبھی صورتِ
حالات سے باہر نہ گیا
میں کبھی محبت
میں اوقات سے باہر نہ گیا
اک تو ہے کہ
جہاں بھر سے تعلق تیرا
اِک میں کہ تیری
ذات سے باہر نہ گیا
سوچ کوئی نہ تیری سوچ سے ہٹ کر سوچی
تذکرہ کوئی بھی
تیری بات سے باہر نہ گیا
مرحلہ تجھ سے
جُدائی کابھی آ پہنچا ، مگر
میں ابھی پہلی ملاقات
سے باہر نہ گیا
آؤ سورج کو
بتاتے ہیں تمازت کیا ہے
چاند کیا جانے ،
وہ خُود رات سے باہر نہ گیا
محبت
جن سے ہوتی ہے،اُن کی شکایت مار دیتی ہے
نفر
ت میں کو ئی نہیں مرتا، محبت مار دیتی ہے
سمجھ
آتی ہے مجھ کو لوگوں کے رویوں کی لہجوں کی
چُپ
رہتا ہوں میں عادلؔ ، شرافت مار دیتی ہے
میری
زندگی کی کتاب میں
تیرا
نام لکھا ہر باب میں
جو
نشہ ہے تیری ذات میں
نہیں
ملا ہمیں کسی شراب میں
عادلؔ
مٹی
ہے نہ تو سونا ہے
تیرا
ہونا بھی کیا ہونا ہے
مُنکر
ہے جو تیری ذات کا
اُس
کا ہونا بھی نہ ہونا ہے
عادلؔ
زندگی کی کتاب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
ہر لمحہ ہر حساب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عبادت جو کرتے ہیں عادل ؔجنت کی چاہ میں
اُن کے اِس ثواب میں خسارہ ہی خسارہ ہے
عادلؔ
عید
آئی مگردِل میں خُوشی نہیں آئی
بعدتیرے ہونٹوں پہ ہنسی نہیں آئی
کیسے
کہہ دوں وقت بڑا قیمتی ہے عاؔدل
جب
تک تیری دِید کی گھڑی نہیں آئی
غزل
گلی کو تیری ہم دار لاماں
سمجھتے ہیں
یہ وہ زمیں ہے جسے آسماں سمجھتے
ہیں
انہیں حرم سے غرض نہ دیر سے
کچھ کام
جو اپنا قبلہ تیرا آستاں سمجھتے
ہیں
جُدا جُدا اسیرانِ عشق کی
فریاد
نہ اُن کی میں نہ وہ میری
زُباں سمجھتے ہیں
ہمارے ساقی کو کہتے ہیں شیخ
اہلِ حرم
جو بادا نوش ہیں پیرِ مُغاں
سمجھتے ہیں
دیئے تو ترکِ محبت کے
مشوارے سب نے
مگر یہ حضرتِ بیدم کہاں
سمجھتے ہیں
غزل
آپ ٹہرے ہیں تو ٹہرا ہے
نظامِ عالم
آپ گذرے ہیں تو اِک موجِ
رواں گذری ہے
گر چہ سامان غمِ ہجرسےجاں
گذری ہے
مگر جو دِل پہ گذرنی تھی
کہاں گذری ہے
ہوش میں آئے تو بتلائے تیرا
دیوانہ
دِن کہاں گذرا اور رات کہاں
گذری ہے
حشر کے بعد بھی دیوانے تیرے
پوچھتے ہیں
وہ قیامت جو گذرنی تھی
کہاں گذری ہے
ظاہر غمِ جاناں کا اثر ہونے
نہ دینگے
روئیں مگر آنکھ بھی تر ہونے نہ دینگے
دیکھیں گے انہیں بس محبت سےہم
محسوس محبت کی نظر ہونے نہ
دینگے
اِس دورِ حوادث اے جانِ
بہاراں
ویراں تیری یادوں کا نگر ہونے
نہ دینگے
نہ تم آئے شبِ وعدہ پریشاں
رات بھر رکھا
دِیا اُمید کا میں نے جلائے
تا سحر رکھا
کوئی اُس طائرِ مجبور کی بے
چارگی دیکھے
قفس میں بھی جسے صیاد نے بے بال و پَر رکھا
میں ہوش میں ہوں تو تیرا
ہوں
دیوانہ ہوں تو تیرا ہوں
ہوں راز اگرتوتیرا ہوں
افسانہ ہوں توتیراھوں
برباد کیا برباد ہوا
آباد کیا آباد ہوا
ویرانہ ہوں تو تیرا ہوں
کاشانہ ہوں تو تیرا ہوں
اَب لفظ و بیاں سب ختم ہوئے
اَب لفظ وبیاں کا کام نہیں
اب عشق ہے خود پیغام اپنا
اور عشق کا کچھ پیغام نہیں
کیا کہوں کس سے کہوں
کیسے کہوں کیونکر کہوں
زندگی کی کتاب میں خسارہ ہی خسارہ ہے ہر لمحہ ہر حساب میں خسارہ ہی خسارہ ہے عبادت جو کرتے ہیں جنت کی چاہ میں اُ ن کے ہر ثواب میں خسارہ ...