کون بھنور میں
ملاحوں سے تکرار کرے گا
اب تو قسمت سے
ہی کوئی دریا پار کرے گا
دِل میں تیرا
قیام تھا ،لیکن یہ کسے خبر تھی
دُکھ بھی اپنے
ہونے کا اصرار کرے گا
نوشی گیلانی
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment