کون بھنور میں
ملاحوں سے تکرار کرے گا
اب تو قسمت سے
ہی کوئی دریا پار کرے گا
دِل میں تیرا
قیام تھا ،لیکن یہ کسے خبر تھی
دُکھ بھی اپنے
ہونے کا اصرار کرے گا
نوشی گیلانی
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment