Monday, 28 December 2020

Mill gai aap ko ( You got time )


غزل

مل گئی آپ کو فُرصت کیسے

یاد آئی میری صورت کیسے


پُوچھ اُن سے جو بچھڑ جاتے ہیں

ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے


تیری خاطر تو یہ آنکھیں پائیں

میں بُھلادوں تیری صورت کیسے


اب تو سب کچھ مُیسر ہے اُسے

اب اُسے میری ضرورت کیسے


تجھ سے اب کوئی تعلق ہی نہیں

تجھ سے اب کوئی شکایت کیسے


کاش ہم کو بھی بتا دے کوئی

لوگ کرتے ہیں محبت کیسے


تیرے دِل میں میری یادیں تڑپیں

اتنی اچھی میری قسمت کیسے


وہ تو خود اپنی تمنا ہے عدیمؔ

اُس کے دِل میں کوئی چاہت  کیسے




 

No comments:

Post a Comment

Adam ka Butt bana kay (Making an idol of Adam )

آدم کا بت بنا کےاُس  میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں   خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...