صبر اورضبط کی
دیوار اُٹھائی جائے
سینہ دُکھتا ہے
تو دُکھے، آہ دبائی جا ئے
یا تو وعدہ نہ کرو،
کرلو تو پھر یاد رکھو!
جان جائےکہ رہے،
بات نبھائی جائے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment