صبر اورضبط کی
دیوار اُٹھائی جائے
سینہ دُکھتا ہے
تو دُکھے، آہ دبائی جا ئے
یا تو وعدہ نہ کرو،
کرلو تو پھر یاد رکھو!
جان جائےکہ رہے،
بات نبھائی جائے
نظر نظر کا حساب ہوتا ہے کس میں کتنا حجاب ہوتا ہے نظر تو آ تے ہیں سبھی ہم کو کوئی بند کوئی کھلی کتاب ہوتا ہے عادل
No comments:
Post a Comment