گیت لکھے بھی تو
ایسے کہ سنائے نہ گئے
زخم یوں لفظوں
میں اُترے کہ دِکھائے نہ گئے
آج تک رکھے ہیں
پچھتا وے کی الماری میں
اک دو وعدے جو
دونوں سے نبھائے نہ گئے
آدم کا بت بنا کےاُس میں سما گیا ہوں ویسے بھی میں خُدا تھا ایسے بھی میں خُدا ہوں خُود مَیں نے ہی بتایا وہ رازِ کنت و کنزن اب آدمی کی صُورت...
No comments:
Post a Comment